لویا جرگہ میں تاخیر، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی عدم شرکت پر قبائلی مشران برہم
پشاور: جنید طورو
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے قبائلی مشران کا ایک اہم لویا جرگہ طلب کیا گیا، تاہم حیران کن طور پر وہ خود مقررہ وقت پر اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، جس پر قبائلی عمائدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق جرگہ صبح 10 بجے پشاور میں منعقد ہونا تھا اور اس میں قبائلی اضلاع کو درپیش مسائل، امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں اور انتظامی امور پر تفصیلی مشاورت ہونا تھی۔ قبائلی مشران دور دراز علاقوں سے طویل سفر طے کر کے مقررہ وقت سے قبل ہی جرگہ مقام پر پہنچ گئے تھے، تاہم دو گھنٹے سے زائد انتظار کے باوجود وزیراعلیٰ اجلاس میں نہ پہنچ سکے۔
مشران نے اس غیر معمولی تاخیر کو نہ صرف افسوسناک قرار دیا بلکہ اسے قبائلی روایات اور اقدار کے منافی بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ لویا جرگہ قبائلی معاشرے میں انتہائی اہمیت کا حامل فورم ہوتا ہے، جہاں باہمی مشاورت اور احترام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اس طرح کی تاخیر قبائلی عمائدین کی بے توقیری کے مترادف ہے۔
بعض مشران نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ اگر حکومت قبائلی قیادت کو سنجیدگی سے نہیں لے گی تو اس کے اثرات مستقبل میں تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کو پہلے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں تاخیر مایوس کن ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کی جانب سے تاحال تاخیر کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے نہ صرف حکومتی نظم و ضبط پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ قبائلی عمائدین کے ساتھ روابط کے حوالے سے بھی سنجیدگی کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں قبائلی جرگوں کو تنازعات کے حل اور اہم فیصلوں میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، اور ان میں شرکت کو اعزاز اور ذمہ داری دونوں سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اعلیٰ حکومتی شخصیت کی عدم موجودگی نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔








