وفاقی آئینی عدالت میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف دائر مختلف آئینی درخواستوں کو باقاعدہ سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ ان درخواستوں میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیے مبینہ “رہائی فورس” کے قیام کے اعلان، خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات کی واپسی اور ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن حملہ کیس سے متعلق اہم قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں۔
عدالتی ذرائع کے مطابق چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔ عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت سمیت تمام متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے تاکہ آئندہ سماعت پر تمام قانونی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے لیے “رہائی فورس” بنانے کا اعلان آئینی اور قانونی تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایڈووکیٹ ملک ظہیر احمد نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ کسی بھی نجی یا غیر سرکاری فورس کے قیام کی اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ ریاستی اداروں کے اختیارات اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی اقدام کو فوری طور پر روکا جائے۔
اسی روز عدالت خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے مقدمات واپس لینے سے متعلق اپیل پر بھی سماعت کرے گی۔ وفاقی آئینی عدالت اس معاملے میں پہلے ہی حکم امتناع جاری کر چکی ہے، جس کے تحت مقدمات کی واپسی کا عمل تاحکمِ ثانی روک دیا گیا ہے۔ آئندہ سماعت میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ مقدمات واپس لینے کا حکومتی فیصلہ قانونی تقاضوں کے مطابق تھا یا نہیں۔
دوسری جانب ریڈیو پاکستان نے بھی پشاور اسٹیشن حملہ کیس واپس لینے کے حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس حساس مقدمے کو خیبرپختونخوا سے کسی دوسرے صوبے میں منتقل کیا جائے تاکہ شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ان تمام درخواستوں کی سماعت نہ صرف خیبرپختونخوا حکومت کے بعض فیصلوں کی آئینی حیثیت واضح کرے گی بلکہ مستقبل میں نجی فورسز کے قیام، حساس مقدمات کی واپسی اور ریاستی اختیارات کے استعمال سے متعلق اہم قانونی نظیر بھی قائم کر سکتی ہے۔ سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں اب وفاقی آئینی عدالت کی آئندہ کارروائی پر مرکوز ہیں، جہاں ان اہم معاملات پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔








