ٹرمپ کا ایران کی ناکہ بندی بحال کرنے کا اعلان، تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ٹرمپ کا ایران کی ناکہ بندی بحال کرنے کا اعلان، تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زائد اضافہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ناکہ بندی دوبارہ بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد پابندیوں اور ناکہ بندی کے انتظامی ڈھانچے کو دوبارہ فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اب آبنائے ہرمز کے محافظ کے طور پر اپنا کردار ادا کرے گا اور عالمی تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے اسے ہر صورت کھلا رکھا جائے گا۔ ان کے مطابق تمام کارگو جہازوں پر 20 فیصد کی شرح سے امریکا کو معاوضہ ادا کرنا ہوگا، جبکہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور مستقبل میں بھی کھلی رہے گی۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کا مقصد عالمی تجارتی راستوں کا تحفظ، خطے میں استحکام اور بین الاقوامی تجارت کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنے اتحادی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

دوسری جانب ٹرمپ کے ایران کے خلاف ناکہ بندی بحال کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کے باعث تیل کی خریداری میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت بڑھ کر 74 ڈالر فی بیرل جبکہ برطانوی خام تیل (برینٹ) 79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی یا آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی تو عالمی توانائی منڈیوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

More News