ٹیم خرید کر احسان نہیں کیا، پیسہ دیا تو کمایا بھی، فواد سرور کی پرانے مالکان پر تنقید
لندن: پاکستان سپر لیگ کی نئی فرنچائز حیدرآباد کنگزمین کے مالک فواد سرور نے پی ایس ایل کی پرانی فرنچائزز کے مالکان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم خریدنا کوئی احسان نہیں تھا، رقم لگائی تو اس کے بدلے کمائی اور شہرت بھی حاصل کی گئی۔
پی ایس ایل گورننگ کونسل کا اجلاس لندن میں منعقد ہوا جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اور فرنچائز مالکان نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ایک مالک کی جانب سے طنزیہ بات کیے جانے پر فواد سرور نے پرانے فرنچائز مالکان کو سخت جواب دیا۔
فواد سرور کا کہنا تھا کہ آپ لوگ ہر وقت خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کیوں کرتے ہیں، آپ نے پی ایس ایل فرنچائز خرید کر کوئی احسان نہیں کیا۔ جتنی رقم آپ نے 10 سال میں دی، اس کا کافی بڑا حصہ ہم ایک ہی برس میں ادا کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اتنے سال گزرنے کے باوجود آپ خسارے میں ہیں تو اس کی وجوہات تلاش کریں۔ ان کے مطابق فرنچائز مالکان کو پاکستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی کاروباری مواقع اور اسپانسرز تلاش کرنے چاہئیں، اس لیے سرمایہ کاری کو احسان کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
فواد سرور نے پاکستان کرکٹ بورڈ حکام سے بھی کہا کہ قومی کرکٹ سے وابستہ افراد کو گفتگو اور رویے کا سلیقہ سکھایا جائے، کیونکہ ان کے طرز عمل سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق فواد سرور کی سخت گفتگو کے دوران اجلاس میں موجود دیگر فرنچائز مالکان خاموش رہے اور کسی نے ان کی بات کا جواب نہیں دیا، جبکہ بورڈ حکام کی جانب سے بھی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
اجلاس میں ایک فرنچائز مالک نے پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کارکردگی توقعات کے مطابق نہیں تو انہیں بھاری معاوضے دینے کا جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا کہ پی ایس ایل کے آئندہ ایڈیشن سے قبل کھلاڑیوں کی فیس پر نظرثانی کی جائے۔
یوں پی ایس ایل گورننگ کونسل کے اجلاس میں فرنچائز مالکان کے درمیان مالی معاملات، سرمایہ کاری، کھلاڑیوں کے معاوضوں اور رویوں سے متعلق اختلافات بھی سامنے آگئے۔







