پارلیمنٹ ہاؤس میں غیرمتعلقہ گاڑی کے داخلے اور متنازع ویڈیو پر مقدمہ درج

غیرمتعلقہ گاڑی کے پارلیمنٹ میں داخلے اور متنازع ویڈیو بنانے کے خلاف مقدمہ درج

اسلام آباد: پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ایک غیرمتعلقہ گاڑی کے داخلے اور متنازع ویڈیو بنانے کے معاملے پر تھانہ سیکرٹریٹ اسلام آباد میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ میجر (ر) وجاہت افضل کی درخواست پر درج کیا گیا، جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق یہ واقعہ 8 مئی کو پیش آیا، جب ایک غیرمتعلقہ گاڑی پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل ہوئی اور تقریباً سات منٹ تک پارلیمنٹ کی پارکنگ میں موجود رہی۔ درخواست گزار کے مطابق گاڑی میں موجود شخص کا پارلیمنٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا، اس کے باوجود وہ حساس سرکاری مقام تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔

مقدمے کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص نے پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ایک متنازع ویڈیو بھی ریکارڈ کی۔ الزام ہے کہ ویڈیو میں ایک معزز رکنِ پارلیمان کی تضحیک کی گئی اور بعد ازاں اسے سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد معاملے نے توجہ حاصل کی اور متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا فیصلہ کیا۔

ذرائع کے مطابق ویڈیو میں وفاقی وزیر ریلوے کے خلاف مواد بھی شامل تھا، جسے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کیا گیا۔ شکایت کنندہ کا مؤقف ہے کہ اس عمل سے نہ صرف منتخب نمائندوں کی ساکھ متاثر ہوئی بلکہ پارلیمنٹ جیسے اہم قومی ادارے کی سیکیورٹی پر بھی سوالات اٹھے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں گاڑی کے داخلے کی اجازت، سیکیورٹی انتظامات اور ویڈیو کی تیاری و تشہیر سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق حساس سرکاری مقامات میں غیر مجاز داخلہ اور وہاں سے مواد ریکارڈ کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے، جس کی مکمل اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

More News