پرتگال میں عوامی مقامات پر نقاب پر پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ
پرتگال میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھانپنے والے نقاب پر پابندی کا قانون نافذ ہوگیا ہے، جس کے تحت قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 150 سے 3 ہزار یورو تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پرتگالی صدر کی جانب سے قانون کی منظوری کے بعد یہ پابندی باقاعدہ نافذ العمل ہوگئی۔ خبرایجنسی کے مطابق قانون کو انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت بھی حاصل رہی، جس کے باعث اس اقدام نے ملک میں سیاسی اور سماجی بحث کو مزید تیز کردیا ہے۔
نئے قانون کے تحت عوامی مقامات پر ایسا لباس پہننے پر پابندی عائد کی گئی ہے جس سے چہرہ مکمل طور پر چھپ جائے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد عوامی مقامات پر شناخت واضح رکھنا، سماجی رابطوں کو بہتر بنانا اور عوامی سلامتی سے متعلق تقاضوں کو یقینی بنانا ہے۔
قانون کی خلاف ورزی پر کم از کم 150 یورو جبکہ سنگین صورت میں 3 ہزار یورو تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم قانون میں بعض مخصوص حالات کے لیے استثنیٰ بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں صحت، پیشہ ورانہ ضروریات اور بعض مذہبی یا ثقافتی مواقع شامل ہوسکتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق عمومی طور پر عوامی مقامات پر چہرہ مکمل طور پر چھپانے والے لباس پر ہوگا، تاہم ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس کے اثرات خاص طور پر مسلمان خواتین پر پڑ سکتے ہیں جو مذہبی وجوہات کی بنا پر نقاب یا برقع استعمال کرتی ہیں۔
انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے حامی حلقوں نے قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو عوامی سلامتی اور شہریوں کی ذاتی و مذہبی آزادی کے درمیان توازن برقرار رکھنا چاہیے۔ ناقدین کے مطابق لباس کا انتخاب فرد کی ذاتی اور مذہبی آزادی کا حصہ ہے، اس لیے اس پر قانونی پابندی بنیادی حقوق کے حوالے سے سوالات پیدا کرتی ہے۔
یورپ کے کئی ممالک میں پہلے ہی چہرہ ڈھانپنے والے لباس سے متعلق مختلف قوانین نافذ ہیں، تاہم ان کی نوعیت اور دائرہ کار ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ پرتگال میں نئے قانون کے نفاذ کے بعد بھی مذہبی آزادی، خواتین کے لباس کے انتخاب اور عوامی سلامتی کے درمیان توازن پر بحث جاری رہنے کا امکان ہے۔





