پشاور جوڈیشل کمپلیکس میں خاتون وکیل پر تشدد، ہائیکورٹ کا فریقین کو نوٹس

پشاور جوڈیشل کمپلیکس میں خاتون وکیل پر تشدد، ہائیکورٹ کا فریقین کو نوٹس

پشاور: جوڈیشل کمپلیکس میں خاتون وکیل پر مبینہ تشدد کے معاملے پر پشاور ہائیکورٹ نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے مقدمے سے متعلق تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خاتون وکیل کی جانب سے واقعے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا، جس پر پشاور ہائیکورٹ نے درخواست کی سماعت کے دوران متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ عدالت کی جانب سے جاری نوٹس کے بعد معاملہ مزید قانونی کارروائی کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

واقعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پشاور جوڈیشل کمپلیکس میں خاتون وکیل کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کیا گیا، جس کے بعد وکلا برادری میں بھی تشویش پائی گئی۔ واقعے کے محرکات، ذمہ دار افراد اور کارروائی سے متعلق مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر ان کا مؤقف طلب کیا ہے۔ آئندہ سماعت پر متعلقہ حکام کی جانب سے عدالت کو تفصیلات اور جواب پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

وکلا برادری کا کہنا ہے کہ عدالتوں اور جوڈیشل کمپلیکس میں کام کرنے والے وکلا کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے، جبکہ کسی بھی وکیل کے ساتھ بدسلوکی یا تشدد کے واقعات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق ہائیکورٹ کی جانب سے فریقین کو نوٹس جاری ہونا معاملے کی عدالتی نگرانی میں مزید پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم واقعے کی مکمل ذمہ داری اور دیگر قانونی نکات کا تعین عدالت میں پیش ہونے والے شواہد اور فریقین کے مؤقف کی روشنی میں ہوگا۔

پشاور ہائیکورٹ کے آئندہ احکامات سے اس معاملے میں مزید پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔

More News