پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کی 27 درخواستوں پر سماعت، اگلی پیشی 20 اکتوبر کو مقرر
پشاور ہائیکورٹ میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر اور صوبائی وزراء سمیت دیگر افراد کی 27 درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس اعجاز انور کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ حکام سے مقدمات کی تفصیلات طلب کرنے کے باوجود انہیں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ وکیل آصف بابر کے مطابق اسد قیصر نے چیف کمشنر کو درخواست دی تھی، تاہم مقدمات کی تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں۔ وکیل بشیر خان وزیر نے بھی بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر سے رجوع کرنے کے باوجود مطلوبہ تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
وکیل محمد انعام یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد کو رات کے وقت اٹھایا گیا، جبکہ ان کے مطابق مردان سے ایک رکن اور سوات سے ایک صوبائی وزیر کو بھی اٹھائے جانے کے واقعات پیش آئے۔ وکیل علی زمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں ارکان کو نامعلوم افراد کی جانب سے اٹھائے جانے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔
درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں عدالت میں پیش ہونے تک گرفتار یا ہراساں نہ کیا جائے اور پہلے سے حاصل عبوری ریلیف برقرار رکھا جائے۔
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ عدالت اسلام آباد کے حکام کو براہ راست حکم جاری نہیں کر سکتی۔ سماعت کے دوران مقدمات کو ڈویژن بینچ میں مقرر کرنے سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔
عدالت نے کیسز کی مزید سماعت 20 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئندہ پیشی پر مکمل تیاری کے ساتھ پیش ہوں، مزید مہلت نہیں دی جائے گی اور مقدمات کا فیصلہ کیا جائے گا۔








