پشاور ہائیکورٹ نے کے ایم یو وائس چانسلر کی تقرری کا نوٹیفکیشن 6 اگست تک روک دیا

پشاور ہائیکورٹ نے کے ایم یو وائس چانسلر کی تقرری کا نوٹیفکیشن 6 اگست تک روک دیا

پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) میں وائس چانسلر کی تقرری کے طریقہ کار کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو نئے وائس چانسلر کی تقرری کا نوٹیفکیشن 6 اگست تک جاری کرنے سے روک دیا۔

درخواست کی سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے صوبائی حکومت اور کے ایم یو انتظامیہ سے وائس چانسلر کی تقرری کے لیے اختیار کیے گئے معیار اور طریقہ کار پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔

دورانِ سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ فریقین واضح کریں کہ انہوں نے کس قانون کے تحت تقرری کے لیے اپنا الگ معیار وضع کیا، جبکہ وائس چانسلر کی تقرری کے لیے پہلے سے نمبرات کا ایک مقررہ فارمولا موجود ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک مکمل ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی۔

درخواست گزاروں کے وکیل عامر جاوید ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں کو اکیڈمک سرچ کمیٹی نے وائس چانسلر کے عہدے کے لیے شارٹ لسٹ کیا تھا، تاہم تقرری کا عمل یونیورسٹیز ایکٹ 2012 کے برعکس انجام دیا گیا۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق 70 فیصد نمبر تعلیمی قابلیت، تحقیقی اشاعتوں اور انتظامی تجربے کے لیے جبکہ 30 فیصد نمبر انٹرویو کے لیے مختص ہیں، لیکن اکیڈمک سرچ کمیٹی نے مبینہ طور پر قانون کے برخلاف طریقہ کار اپنایا، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں۔

عدالت نے فریقین کو آئندہ سماعت پر تقرری سے متعلق مکمل رپورٹ اور ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے نئے وائس چانسلر کی تقرری کا نوٹیفکیشن 6 اگست تک جاری نہ کرنے کا حکم برقرار رکھا۔

More News