پمز آتشزدگی: قومی اسمبلی کی ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی قرارداد منظور

پمز آتشزدگی: قومی اسمبلی کی ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی قرارداد منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پمز ہسپتال میں حالیہ آتشزدگی کے المناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان نے رکن قومی اسمبلی دانیال چوہدری کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

قرارداد میں پمز آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ غفلت یا حفاظتی اقدامات میں کوتاہی کے ذمہ دار کسی بھی فرد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

ایوان نے وفاقی حکومت کے ہسپتالوں، خصوصاً نوزائیدہ بچوں اور اطفال کے یونٹس میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری تیاریوں اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی اگر مگر کی بات نہیں کریں گے اور وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی شخص ذمہ دار ثابت ہوا، اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ان سمیت جو بھی ذمہ دار ہوگا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کمیٹی بھی معاملے کا جائزہ لے کر تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے واقعے کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے سابق سیکرٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ جمعے کی شام تک جبکہ تفصیلی رپورٹ سات روز میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن رہنما بیرسٹر گوہر نے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے وقت پمز میں ڈاکٹرز اور نرسز موجود نہیں تھے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین مہیش کمار مالانی نے بھی پمز میں حفاظتی انتظامات اور آتشزدگی کی وجوہات پر سوالات اٹھاتے ہوئے ذمہ دار اداروں کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

More News