پنجاب کے سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی سالانہ فیس میں اضافہ، 15 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے مقرر
پنجاب کے سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے طلبہ کی سالانہ فیس میں اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد فیس 15 ہزار روپے سے بڑھا کر 50 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
فیس میں اضافے کے بعد سرکاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں زیر تعلیم طلبہ کو اب سالانہ زیادہ اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔ اس فیصلے سے ان طلبہ کے تعلیمی اخراجات متاثر ہونے کا امکان ہے جو محدود مالی وسائل کے ساتھ میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پاکستان میں طبی تعلیم کے اہم پیشہ ورانہ پروگرام ہیں۔ ان شعبوں میں داخلے کے لیے طلبہ کو سخت مقابلے سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ تعلیم کے دوران فیس، کتابوں، رہائش اور دیگر ضروریات پر بھی اخراجات آتے ہیں۔ ایسے میں سالانہ فیس میں اضافے سے طلبہ اور ان کے خاندانوں کے بجٹ پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
سرکاری میڈیکل کالجز کو عموماً نجی اداروں کے مقابلے میں کم فیس کے باعث طلبہ کے لیے نسبتاً قابل رسائی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم فیس میں اضافے کے بعد طلبہ کے لیے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کی منصوبہ بندی مزید اہم ہو جائے گی۔
طبی تعلیم کے شعبے میں فیس کے تعین کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار، طبی تربیت کی سہولیات اور مستحق طلبہ کے لیے مالی معاونت بھی اہم معاملات ہیں۔ وظائف اور دیگر امدادی پروگرام محدود مالی وسائل رکھنے والے طلبہ کے لیے تعلیم جاری رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
فیس میں اضافے کے اطلاق کی تاریخ، موجودہ اور نئے داخل ہونے والے طلبہ پر اس فیصلے کے اثرات اور ممکنہ رعایتوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت ان امور کے بارے میں صورت حال واضح کر سکتی ہے۔








