پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوامی ریلیف کیلئے وزیراعظم کی فوری ہدایات
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کردی ہے۔ وزیراعظم نے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو فوری طور پر کراچی پہنچنے اور آئل ریفائنریز کے نمائندوں سے مذاکرات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم سے وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ملاقات کی، جس میں ملک کی موجودہ ایندھن کی قیمتوں اور عوام کو ممکنہ ریلیف دینے کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک اور رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ کراچی پہنچ کر مقامی آئل ریفائنریز سے فوری مذاکرات کریں اور مقامی طور پر تیار ہونے والے ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی کے لیے اقدامات یقینی بنائیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں ڈیزل کی بڑی مقدار مقامی ریفائنریز میں تیار ہوتی ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی کے امکانات کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وزیر پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات ذاتی طور پر اور جلد از جلد مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ممکنہ حد تک فوری ریلیف فراہم کیا جاسکے۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت نے گزشتہ شب پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 34 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 27 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔ اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 334 روپے 54 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 395 روپے 69 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس سے قبل کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جارہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرنے کے مطالبے کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج اور دھرنے جاری ہیں۔ پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بھی حکومت کے سامنے اپنے مطالبات رکھے ہیں، جبکہ ڈیلرز مارجن میں اضافے کا مطالبہ منظور کیا جاچکا ہے۔
حکومت کی جانب سے ریفائنریز کے ساتھ مذاکرات کے بعد یہ واضح ہوگا کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والے ڈیزل کی قیمت میں عوام کو کس حد تک ریلیف فراہم کیا جاسکتا ہے۔





