پی ٹی آئی احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے،محمود خان

 پی ٹی آئی احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے،محمود خان

پشاور: سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین محمود خان نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں پی ٹی آئی اب کوئی وجود نہیں رکھتی اور موجودہ قیادت کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

محمود خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ عدالتی مقدمات میں صرف تاریخیں بدلتی رہیں گی، اس لیے تحریک انصاف کی قیادت کو ہر صورت مذاکرات کی طرف جانا چاہیے۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کے احتجاج سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی ممکن نہیں، جبکہ حالات خراب ہونے کی صورت میں نقصان بھی تحریک انصاف کو ہوگا۔

انہوں نے اکتوبر 2025 میں علی امین گنڈاپور کی جگہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تین نام پیش کیے گئے تھے۔ ان کے بقول عمران خان سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے، تاہم انہیں توقع تھی کہ قبائلی پس منظر رکھنے والا نوجوان کچھ کرکے دکھائے گا، جس کے بعد ان کا انتخاب کیا گیا۔

محمود خان نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو حکومتی امور چلانے کا تجربہ نہیں تھا اور ان پر بہت زیادہ دباؤ تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے سنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے بھائی اور دستِ راست وزیراعلیٰ ہاؤس کو کمائی کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ نے علی امین گنڈاپور کے 19 ماہ کے دورِ اقتدار پر بھی تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ وہ بیک وقت دونوں طرف کھیل رہے تھے۔ ان کے مطابق گنڈاپور کو عمران خان کی رہائی کے مقصد سے وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا، تاہم بعد میں عمران خان کو ان کے کردار پر تحفظات ہوئے۔

محمود خان نے افغانستان سے ٹی ٹی پی سے وابستہ افراد کی واپسی کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ صرف عمران خان کا نہیں تھا بلکہ اس وقت کی قیادت نے مل کر کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 2023 میں شاہ محمود قریشی نے عمران خان کے سامنے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز رکھی، تاہم صوبائی قیادت نے اس کی مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق صوبائی قیادت چاہتی تھی کہ پہلے پنجاب اسمبلی تحلیل کرکے وہاں انتخابات کے نتائج دیکھے جائیں، اس کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی سے متعلق فیصلہ کیا جائے۔

محمود خان کے مطابق عمران خان سے ان کا آخری رابطہ 16 جولائی 2023 کو ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے انہیں پارٹی نہ چھوڑنے کا کہا تھا، تاہم بعض مجبوریوں کے باعث انہیں تحریک انصاف چھوڑنا پڑی۔

More News