پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ثالثی کی پیشکش
ہنگو: پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل ملک حبیب نور اورکزئی نے پاکستان تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کردی۔
ہنگو میں گفتگو کرتے ہوئے ملک حبیب نور اورکزئی نے کہا کہ موجودہ وقت سیاسی انتشار کا نہیں بلکہ مفاہمت اور مذاکرات کا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر زور دیا کہ لانگ مارچ اور تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں فریقوں کو تحمل اور لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ملک حبیب نور اورکزئی نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے لیے وہ ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر نکالا جا سکتا ہے، جبکہ تصادم اور محاذ آرائی سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا پہلے ہی بدامنی کا شکار ہے اور صوبے میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ایسے حالات میں مزید سیاسی کشیدگی ملکی مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ اور احتجاجی سرگرمیوں سے ملکی معیشت، تعلیم اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
پی ٹی آئی پارلیمنٹرین کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اگر ایران، امریکہ اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ہو سکتے ہیں تو پاکستان میں پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان بھی بات چیت ممکن ہے۔ ان کے مطابق دونوں فریق اگر سنجیدگی اور خلوص کا مظاہرہ کریں تو سیاسی مسائل کا پرامن حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔
ملک حبیب نور اورکزئی نے کہا کہ بعض لوگ مذاکرات نہیں چاہتے، تاہم موجودہ صورتحال میں ایسے مخلص افراد کی ضرورت ہے جو دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز تک لانے میں کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک اور مٹی کی خاطر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کرانے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کے لیے حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کو لچک، تحمل اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کے بقول پی ٹی آئی اور حکومت کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے اور وہ دونوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ملک حبیب نور اورکزئی نے زور دیا کہ ملکی مفاد میں سیاسی کشیدگی کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور مسائل کا حل مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔








