پی ٹی اے نے ڈیجیٹل سیکیورٹی بہتر بنانے کیلئے اہم ایڈوائزری جاری کردی

پی ٹی اے نے شہریوں کو ڈیجیٹل تحفظ کے لیے اہم ہدایات جاری کردیں

اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سائبر جرائم، آن لائن دھوکہ دہی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم آگاہی اعلامیہ جاری کرتے ہوئے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ڈیجیٹل اکاؤنٹس کی حفاظت کے لیے مؤثر اور محفوظ طریقے اختیار کریں۔

پی ٹی اے کے مطابق موجودہ دور میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے ساتھ ساتھ سائبر جرائم اور معلومات چوری کرنے کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسے حالات میں صارفین کی ذاتی معلومات، مالی معاملات اور نجی ڈیٹا کو محفوظ رکھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہری اپنے تمام اکاؤنٹس کے لیے مضبوط اور منفرد خفیہ الفاظ استعمال کریں۔ آسان، مختصر یا عام طور پر استعمال ہونے والے خفیہ الفاظ غیر قانونی رسائی کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی خفیہ لفظ کو متعدد اکاؤنٹس کے لیے استعمال کرنا بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ایک اکاؤنٹ متاثر ہونے کی صورت میں دیگر اکاؤنٹس بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔

پی ٹی اے نے شہریوں کو دوہری تصدیقی نظام فعال کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اضافی حفاظتی مرحلے سے اکاؤنٹس مزید محفوظ ہو جاتے ہیں اور غیر مجاز افراد کے لیے رسائی حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا ہے کہ نام، تاریخ پیدائش، موبائل نمبر یا آسان عددی سلسلوں کو خفیہ لفظ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ ایسے خفیہ الفاظ کا اندازہ لگانا نسبتاً آسان ہوتا ہے جس سے اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے خفیہ الفاظ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور وقتاً فوقتاً انہیں تبدیل کرتے رہیں۔

پی ٹی اے نے جدید حفاظتی سہولیات کے استعمال کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے اور کہا ہے کہ انگلیوں کے نشانات یا چہرے کی شناخت پر مبنی حفاظتی نظام روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ثابت ہو سکتے ہیں۔

اتھارٹی کے مطابق ڈیجیٹل تحفظ صرف اداروں کی نہیں بلکہ ہر صارف کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ محفوظ خفیہ الفاظ، محتاط رویہ اور حفاظتی ہدایات پر عمل درآمد کے ذریعے سائبر خطرات سے مؤثر انداز میں بچا جا سکتا ہے اور ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

More News