چارسدہ: معروف عالم دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید
ضلع Charsadda کی معروف مذہبی و سیاسی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث Maulana Muhammad Idrees Tarangzai قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ وہ Jamiat Ulema-e-Islam (جے یو آئی) سے وابستہ رہے اور صوبائی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے۔ ان کی شہادت کی خبر سنتے ہی علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی۔
پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ کا واقعہ چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں پیش آیا۔ مولانا محمد ادریس درسِ حدیث دینے کے لیے دارالعلوم اتمانزئی جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ انہیں شدید زخمی حالت میں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر (ڈی ایچ کیو) اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ راستے ہی میں دم توڑ گئے۔
واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے خول برآمد کیے گئے ہیں جبکہ قریبی علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے میں دو ملزمان ملوث ہیں، جن کی شناخت اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
مولانا محمد ادریس 1961 میں چارسدہ کے علاقے ترنگزئی میں پیدا ہوئے۔ وہ جامعہ احسن المدارس جھگڑا پشاور سے وابستہ رہے اور شیخ الحدیث کے طور پر طویل عرصہ دینی خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کا شمار ملک کے جید اور معتبر علماء میں ہوتا تھا اور ہزاروں طلبہ ان سے فیض یاب ہوئے۔ وہ علمی، دینی اور سیاسی حلقوں میں یکساں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
شہادت کی خبر ملتے ہی ان کے ہزاروں عقیدت مند ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچ گئے اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ مختلف مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ شہید مولانا محمد ادریس کی نمازِ جنازہ آج شام ساڑھے پانچ بجے ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی، ضلع چارسدہ میں ادا کی جائے گی، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت متوقع ہے۔








