چیف خطیب خیبر پختونخوامولانا محمد طیب قریشی کا پیغام، 14 اگست شایان شان طریقے سےمنائیں،چیف خطیب

چیف خطیب خیبرپختونخوا کی قوم سے 14 اگست شایان شان طریقے سے منانے کی اپیل

پشاور: چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا محمد طیب قریشی نے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ 14 اگست یوم آزادی شایان شان طریقے سے منایا جائے اور پاکستان جیسی عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اس سال دو بڑی خوشیاں ایک ساتھ نصیب ہو رہی ہیں، ایک جشن آزادی اور دوسری عید میلاد النبی ﷺ کی خوشی، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطیہ اور باعثِ برکت ہے۔

مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر ہمیں ان قومی ہیروز اور بزرگوں کو ضرور یاد کرنا چاہیے جن کی لازوال قربانیوں اور جدوجہد کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنے اسلاف کی قربانیوں سے آگاہ رہنا چاہیے اور نئی نسل کو تحریک آزادی کی تاریخ سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

چیف خطیب نے کہا کہ نوجوان نسل کو پاکستان کے قیام کے مقاصد، آزادی کی جدوجہد اور قومی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیا جائے تاکہ وہ ملک کی ترقی اور استحکام میں اپنا مثبت کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے علمائے کرام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں ریاست کے حقوق اور شہری ذمہ داریوں کے حوالے سے عوام کی رہنمائی کریں۔ مولانا طیب قریشی نے کہا کہ علماء کو دہشت گردی کے خلاف بھی کھل کر آواز بلند کرنی چاہیے، کیونکہ اسلام میں دہشت گردی اور بے گناہ انسانوں کے قتل کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکار بھی اسی مٹی کے بیٹے ہیں اور قوم کے بچے ہیں، اس لیے عوام کو سیکیورٹی اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔

مولانا طیب قریشی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں باہمی تلخیاں ختم کریں اور سیاسی انتشار میں کمی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام پاکستان کی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کو بھی اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے دشمنوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی قیادت نے عالمی سیاسی منظرنامے میں سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے جس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے۔

چیف خطیب نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بھی بہتر اور برادرانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، کیونکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مثبت روابط ضروری ہیں۔

More News