ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت، کراچی کے جناح اسپتال کے واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقات شروع
کراچی: جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کراچی میں ایک خاتون کی مبینہ طور پر گائنی وارڈ کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے واقعے نے سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ نے اسپتال انتظامیہ پر غفلت اور عدم توجہ کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ اسپتال انتظامیہ نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کے مطابق خاتون کو زچگی کے لیے جناح اسپتال لایا گیا تھا جہاں انہیں بروقت طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ تقریباً چار گھنٹے انتظار کے باوجود ڈاکٹروں اور عملے نے مناسب توجہ نہ دی، جس کے باعث خاتون نے گائنی وارڈ کے واش روم میں بچے کو جنم دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران خاندان کی خواتین نے زچگی کے عمل میں مدد فراہم کی۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں خاتون اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کرتی نظر آتی ہیں، جبکہ ایک اور ویڈیو میں مبینہ طور پر وہ واش روم دکھایا گیا ہے جہاں بچے کی پیدائش ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جناح اسپتال انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان جے پی ایم سی کے مطابق مریضہ نادیہ زوجہ اکرم کو گائنی ایمرجنسی میں پہنچنے پر فوری طور پر ڈیوٹی ڈاکٹروں نے معائنہ کیا اور ان کی طبی حالت کا جائزہ لیا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ طبی ٹیم نے مریضہ کی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے نارمل ڈیلیوری کا فیصلہ کیا اور رات 2 بج کر 50 منٹ پر لیبر روم کے اندر ایک صحت مند بچے کی ولادت ہوئی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق واش روم میں بچے کی پیدائش سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ مریضہ کو پلیٹلیٹس کی کمی سمیت بعض طبی پیچیدگیوں کے باعث خصوصی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ اسپتال کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعد ازاں مریضہ کے لواحقین انہیں طبی مشورے کے برخلاف اسپتال سے لے گئے۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر جے پی ایم سی کی ہدایت پر واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے اور حقائق سامنے لانے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو اپنی رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کارروائی کی سفارشات پیش کرے گی۔








