کاروباری مقام سے سروسز فراہم کرنے والے انڈیٹرز کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح مقرر

کاروباری مقام سے سروسز فراہم کرنے والے انڈیٹرز کیلئے سیلز ٹیکس کی شرح مقرر

بلوچستان ریونیو اتھارٹی (بی آر اے) نے کاروباری مقام سے سروسز فراہم کرنے والے انڈیٹرز کے لیے بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز کی نئی شرح مقرر کردی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق بیرون ملک سے سروسز کی اجرت وصول کرنے والے انڈیٹرز کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح 3 فیصد مقرر کی گئی ہے۔

بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے مطابق 3 فیصد ٹیکس رعایت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک اہم شرط عائد کی گئی ہے۔ انڈیٹرز کو اپنی سروسز کی اجرت بینکنگ چینلز کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ میں وصول کرنا ہوگی۔

اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی رقم اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق متعلقہ انڈیٹر کے کاروباری بینک اکاؤنٹ میں وصول ہوتی ہے تو اسے ٹیکس کی رعایتی شرح کے لیے اہل تصور کیا جائے گا۔

بی آر اے کے مطابق اس اقدام کا مقصد سروسز کے شعبے میں ٹیکس نظام کو مزید منظم کرنا اور بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدن کی درست رپورٹنگ کو یقینی بنانا ہے۔ اتھارٹی نے متعلقہ انڈیٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ قوانین اور طریقہ کار کے مطابق بی آر اے کے ساتھ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں۔

اتھارٹی نے انڈیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی آمدن اور سروسز سے متعلق معلومات کی درست ٹیکس رپورٹنگ کریں اور مقررہ وقت پر ٹیکس ریٹرنز جمع کرائیں۔ بی آر اے کے مطابق ٹیکس قوانین کی پابندی نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ اس سے صوبے میں ٹیکس نظام کو شفاف اور مؤثر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔

بلوچستان ریونیو اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ٹیکس نظام میں شفافیت اور بروقت ریٹرن فائلنگ کے ذریعے صوبائی محصولات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی سروسز کی آمدن کو بینکنگ چینلز کے ذریعے وصول کرنے سے مالی لین دین کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مدد ملے گی۔

ماہرین کے مطابق فری لانسنگ اور آن لائن سروسز سے وابستہ افراد کے لیے بیرون ملک سے حاصل ہونے والی آمدن کی قانونی اور درست رپورٹنگ تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے افراد کو ٹیکس قوانین اور متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا تاکہ وہ دستیاب رعایت سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ قانونی پیچیدگیوں سے بھی محفوظ رہ سکیں۔

بی آر اے نے متعلقہ انڈیٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے کاروباری معاملات، بینکنگ لین دین اور ٹیکس ریٹرنز کا ریکارڈ درست رکھیں تاکہ ٹیکس قوانین کی مکمل تعمیل یقینی بنائی جاسکے۔

More News