کیش لیس معیشت سے شفافیت اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا، وزیراعظم شہباز شریف
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی کیش لیس نظام کی جانب منتقل کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف معاشی شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ پائیدار اقتصادی ترقی، مالیاتی نظام کی مضبوطی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور عوام کو جدید مالیاتی سہولیات کی فراہمی بھی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستان کو جدید ڈیجیٹل معیشت کی جانب منتقل کیا جا سکے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا، جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے معاشی ٹیم، اسٹیٹ بینک، نادرا، وزارت خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے کیے گئے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 کے دوران کیو آر (QR) کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں وصول کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد ان کی تعداد 20 لاکھ 3 ہزار تک پہنچ گئی۔ وزیراعظم نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملک بھر کے تاجروں، دکانداروں اور کاروباری افراد کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے مزید مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ڈیجیٹل مالیاتی نظام پر اعتماد کر رہے ہیں۔ انہوں نے بینکوں، مالیاتی اداروں اور فِن ٹیک کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کریں اور صارفین کو محفوظ، آسان اور تیز رفتار خدمات فراہم کریں۔
اجلاس میں وزیراعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کو مرحلہ وار 100 فیصد ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ انہوں نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے انجام دینے کے اقدام کو شفاف، تیز رفتار اور مستحقین کے لیے سہل قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی۔
حکام نے اجلاس کو بتایا کہ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں اب ڈیجیٹل ذرائع سے کی جا رہی ہیں جبکہ نقد ادائیگیوں کا تناسب 71 فیصد سے کم ہو کر صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ مستحقین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے شفافیت اور سہولت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں 11.9 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کے دوران بیرون ملک سے آنے والی 92 فیصد ترسیلات زر ڈیجیٹل ذرائع سے موصول ہوئیں۔ حکام نے بتایا کہ کیش لیس معیشت کے حوالے سے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا عمل جاری ہے اور اس کی حتمی رپورٹ سفارشات سمیت نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے بھی اپنے رکن بینکوں کو “راست” سمیت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے واضح اہداف دے دیے ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے معاشی مستقبل کی بنیاد ہے اور حکومت اس شعبے میں اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور مالیاتی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی تاکہ ملک میں شفاف، مضبوط اور پائیدار اقتصادی نظام قائم کیا جا سکے۔








