گنی بساؤ میں نومولود بچوں پر ہیپاٹائٹس بی ویکسین کا متنازع ٹرائل روک دیا گیا

گنی بساؤ میں نومولود بچوں پر ہیپاٹائٹس بی ویکسین کا متنازع ٹرائل روک دیا گیا

منصوبے کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا، محققین کو حکومتی منظوری نہ مل سکی

افریقی ملک گنی بساؤ میں نومولود بچوں کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین دینے سے متعلق متنازع تحقیقی منصوبہ روک دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا تھا، جبکہ محققین کو حکومت کی جانب سے ضروری منظوری بھی نہیں مل سکی۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے محقق فریڈرک شالٹز بوخولزر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم لنکڈ اِن پر بتایا کہ یہ تحقیق اب گنی بساؤ میں آگے نہیں بڑھے گی۔ ملک کے وزیرِ صحت کوئنہین نانتوتے بھی اس منصوبے کو آگے بڑھانے کی تردید کر چکے ہیں۔

منصوبے کے لیے امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) کی جانب سے 16 لاکھ ڈالر فراہم کیے جانے تھے، جبکہ مزید 16 لاکھ ڈالر نجی شراکت داروں سے ملنے کی توقع تھی۔

مجوزہ تحقیق پر ویکسین کے ماہرین اور طبی اخلاقیات کے ماہرین نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔ چلڈرنز ہاسپٹل فلاڈیلفیا کے ماہرِ ویکسین پال آفٹ نے منصوبے کو غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے دستیاب وسائل نومولود بچوں کو ویکسین فراہم کرنے پر خرچ کیے جانے چاہییں۔

حکام نے بینڈم ہیلتھ پروجیکٹ کے دفاتر کی تلاشی کے دوران تحقیق کے لیے رکھی گئی ہیپاٹائٹس بی ویکسین کی خوراکیں بھی اپنی تحویل میں لے لیں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ویکسین کی خریداری، نقل و حمل، ذخیرہ کرنے اور دیگر معاملات کی تحقیقات کرنا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) نومولود بچوں کو پیدائش کے 24 گھنٹوں کے اندر ہیپاٹائٹس بی ویکسین کی پہلی خوراک دینے کی سفارش کرتا ہے۔ گنی بساؤ میں تمام نومولود بچوں کو پیدائش کے وقت ویکسین دینے کا ملک گیر پروگرام 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔

More News