100 کلومیٹر دوڑنے کے بعد بولنگ، برطانوی کرکٹر نے عالمی ریکارڈ کی کوشش کردی
لندن: برطانیہ کے ایک کلب کرکٹر نے عالمی ریکارڈ بنانے کے لیے 100 کلومیٹر سے زائد فاصلہ دوڑنے کے بعد کرکٹ میچ میں گیند کروا دی۔
22 سالہ سام بوڈوانو نے لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے دوڑ کا آغاز کیا اور سرے میں واقع ویلی اینڈ کرکٹ کلب پہنچ کر گیند کرائی۔
سام بوڈوانو نے مجموعی طور پر 101.38 کلومیٹر کا فاصلہ 14 گھنٹے 6 منٹ میں طے کیا۔ انہوں نے 30 اگست کو یہ چیلنج مکمل کیا اور دوڑ کے دوران 14 گھنٹے سے زائد وقت تک کرکٹ بال اپنے ہاتھ میں تھامے رکھی، جبکہ مکمل سفید کرکٹ یونیفارم بھی پہنے رکھی۔
دوڑ مکمل کرنے کے بعد انہوں نے میچ میں اپنی پہلی گیند اپنے والد کو کرائی، جنہوں نے گیند کو کور کی جانب کھیلا تاہم کوئی رن حاصل نہ کرسکے۔
سام بوڈوانو نے بتایا کہ وہ 7 سال کی عمر سے کرکٹ کھیل رہے ہیں اور دوڑ کے دوران گیند کو مسلسل ہاتھ میں تھامے رکھنا ان کے لیے انتہائی مشکل مرحلہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دوڑ انتہائی مشکل تھی اور اس دوران ان کی ٹانگیں بری طرح تھک گئی تھیں، تاہم وہ اپنا ہدف مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلی گیند کرانے کے بعد بھی سام بوڈوانو نے میچ جاری رکھا اور مزید 20 اوورز تک میدان میں موجود رہے۔ میچ کے دوران انہوں نے دو چھکے بھی لگائے، تاہم ان کی ٹیم کو ایک رن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
سام بوڈوانو کے مطابق ان کا اصل ہدف 100 کلومیٹر دوڑنا تھا، تاہم انہوں نے جان بوجھ کر قدرے طویل راستہ اختیار کیا تاکہ کسی بھی وجہ سے مقررہ فاصلہ مکمل کرنے سے محروم نہ رہیں۔
اس منفرد چیلنج کا مقصد عالمی ریکارڈ بنانے کے ساتھ ساتھ ایک فلاحی ادارے کے لیے 6 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم جمع کرنا بھی تھا۔
گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق اس ریکارڈ کی تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اگست 2024 میں ایک شخص نے 15 میل دوڑنے کے بعد گیند کروا کر یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔
اگر سام بوڈوانو کی کوشش کی باقاعدہ تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ ان کی جانب سے قائم کیا جانے والا ایک منفرد عالمی ریکارڈ ہوگا۔








