’18 مقدمات میں مطلوب‘ حماد اظہر کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں پولیس کے حوالے کردیا۔
حماد اظہر کو انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سردار محمد اکرم کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انویسٹی گیشن پولیس نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی۔ عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے حماد اظہر کو 20 روز کیلئے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔
انویسٹی گیشن پولیس کے ترجمان کے مطابق حماد اظہر 18 مقدمات میں مطلوب تھے اور گزشتہ تقریباً 3 برس سے روپوش ہونے کے باعث انہیں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ پولیس نے عدالت کو بتایا کہ حماد اظہر سے مختلف مقدمات کے حوالے سے تفتیش کی جائے گی، جس کے بعد مقدمات کے چالان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیے جائیں گے۔
حماد اظہر کو عدالت میں پیش کیے جانے سے قبل جج سردار محمد اکرم نے میڈیا نمائندوں سمیت غیر متعلقہ افراد کو کمرہ عدالت سے باہر جانے کی ہدایت کی۔ جج نے کہا کہ کارروائی کے دوران صرف وکلا اور تفتیشی افسر کمرہ عدالت میں موجود رہیں، جبکہ میڈیا نمائندوں کو کارروائی شروع ہونے پر دوبارہ بلا لیا جائے گا۔
دوسری جانب حماد اظہر کی والدہ نے مبینہ گرفتاری کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ درخواست میں آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور سمیت دیگر حکام کو فریق بنایا گیا اور استدعا کی گئی کہ حماد اظہر کو فوری طور پر عدالت یا متعلقہ مجاز عدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔
درخواست میں ان کی گرفتاری اور حراست کی قانونی بنیاد بھی عدالت کے سامنے پیش کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی نے اس سے قبل حماد اظہر کی گرفتاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام، ریاستی جبر اور فسطائی ہتھکنڈوں کا تسلسل قرار دیا تھا۔ پارٹی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر حماد اظہر کے خلاف مقدمات موجود ہیں تو انہیں قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے۔
اب انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیے جانے کے بعد پولیس حماد اظہر سے مقدمات کے حوالے سے تفتیش کرے گی۔








