گرفتاری کا خدشہ، میر رضا علی کے بزنس پارٹنر احمد نے عدالت سے رجوع کرلیا

گرفتاری کا خدشہ، میر رضا علی کے بزنس پارٹنر احمد نے عدالت سے رجوع کرلیا

کراچی: میر رضا علی کے بزنس پارٹنر احمد نے گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔ احمد کی جانب سے کراچی کی مقامی عدالت میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے وکلا خالد ممتاز اور سعدیہ ممتاز نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس احمد کو بار بار طلب کرکے مبینہ طور پر ہراساں کر رہی ہے اور اسے کسی بھی وقت گرفتار کیے جانے کا خدشہ ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ احمد پولیس کو مقدمے یا تحقیقات سے متعلق تمام مطلوبہ معلومات فراہم کرچکا ہے، اس کے باوجود اسے مسلسل طلب کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق پولیس کی جانب سے بار بار طلبی کے باعث اس میں گرفتاری کا خوف پیدا ہوگیا ہے، اسی لیے عدالت سے حفاظتی ریلیف حاصل کرنے کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی۔

عدالت نے احمد کی درخواست پر پراسیکیوشن اور تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔ عدالت کی جانب سے آئندہ کارروائی کے لیے متعلقہ فریقین سے مؤقف پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ درخواست پر فیصلہ عدالت میں ہونے والی آئندہ سماعت کے بعد متوقع ہے۔

احمد کے وکیل خالد ممتاز نے عدالت کو بتایا کہ میر رضا علی اور احمد ایک دوسرے کو طالب علمی کے زمانے سے جانتے تھے اور دونوں کے درمیان پرانی دوستی تھی۔ دوسری جانب وکیل سعدیہ ممتاز نے مؤقف اختیار کیا کہ کاروبار دراصل احمد نے شروع کیا تھا، جبکہ بعد میں میر رضا علی اس کاروبار میں پارٹنر بنے۔

وکلا کے مطابق میر رضا علی پر احمد کے ساڑھے چار کروڑ روپے سے زائد واجب الادا تھے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ میر رضا علی کی والدہ اس سے قبل گاڑی، گھر اور دیگر اشیا فروخت کرکے قرض کی ادائیگی کرچکی تھیں۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ مالی معاملات کے حوالے سے موجود تنازع اور پولیس کی جانب سے بار بار طلبی کے باعث احمد کو خدشہ ہے کہ اسے گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

احمد کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے اور پولیس کو اسے بلاجواز ہراساں کرنے یا گرفتار کرنے سے روکا جائے۔ عدالت نے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد آئندہ قانونی کارروائی کا تعین کرنا ہے۔

معاملہ اس وقت عدالت کے سامنے ہے، اس لیے اس حوالے سے حتمی قانونی یا عدالتی نتیجہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

More News