اسناد کی تصدیق کے نام پر فراڈ کا خدشہ، ایچ ای سی نے شہریوں کو خبردار کردیا
اسلام آباد: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے تعلیمی اسناد کی تصدیق کے نام پر ممکنہ فراڈ اور جعل سازی کے خلاف عوامی انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر مجاز افراد سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ایچ ای سی کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں بعض افراد خود کو کمیشن کے تصدیقی ایجنٹ ظاہر کرکے شہریوں کو تعلیمی دستاویزات کی تصدیق کرانے میں معاونت کی پیشکش کر رہے ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ایسے افراد سے لین دین یا اپنی معلومات شیئر کرنے سے گریز کیا جائے۔
عوامی انتباہ میں ایچ ای سی نے درخواست گزاروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی ذاتی اور تعلیمی معلومات کسی غیر مجاز شخص کے حوالے نہ کریں، کیونکہ ایسی معلومات کا غلط استعمال فراڈ اور جعل سازی کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
کمیشن کے مطابق تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل مکمل طور پر آن لائن اور کاغذ سے پاک بنایا گیا ہے، جس کے ذریعے درخواست گزاروں کو تیز، آسان اور سہل سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایچ ای سی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ اسناد کی تصدیق کے لیے صرف کمیشن کے سرکاری طریقہ کار اور ویب سائٹ سے استفادہ کیا جائے۔ درخواست گزار دستیاب سرکاری ہدایات کے مطابق اپنی تصدیق کی درخواستیں خود جمع کرائیں اور کسی ایسے شخص کو فیس یا دستاویزات فراہم نہ کریں جو غیر مجاز طور پر ایچ ای سی کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ کرے۔
حکام نے شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا کہ شناختی معلومات، تعلیمی اسناد، لاگ اِن تفصیلات اور دیگر حساس معلومات شیئر کرنے سے پہلے متعلقہ شخص یا سروس کی سرکاری حیثیت کی تصدیق ضرور کریں۔
ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ سرکاری آن لائن نظام کے استعمال سے نہ صرف تصدیق کا عمل شفاف اور آسان رہتا ہے بلکہ شہری ممکنہ دھوکہ دہی اور جعل سازی سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں۔








