پمز سانحہ: چھوٹے کمرے میں 15 بچے رکھے گئے تھے، مصطفیٰ کمال

پمز سانحہ: چھوٹے کمرے میں 15 بچے رکھے گئے تھے، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ اجلاس میں پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے المناک واقعے پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ نوزائیدہ بچوں کو ایک چھوٹے کمرے میں رکھا گیا تھا جہاں 15 بچے موجود تھے۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ آتشزدگی کے دوران متاثرہ فلور سے مجموعی طور پر 80 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ ان کے مطابق واقعے میں بچائے گئے بچے کی حالت اب بہتر ہے اور کوئی بچہ زخمی نہیں ہوا۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پمز سانحے کی تحقیقات کے لیے فی الحال صرف وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسری کمیٹی تحقیقات نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کمیٹی کی تحقیقات میں انہیں بھی ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے تو وہ اس فیصلے کو قبول کریں گے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ اگر انہیں سزا دینے سے تحقیقاتی کمیٹی کی فائنڈنگ شروع ہوتی ہے تو وہ اسے بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اجلاس کے دوران پریزائیڈنگ افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ ذمہ دار افراد کو صرف عہدوں سے ہٹانا کافی نہیں بلکہ ان کے خلاف فوجداری کارروائی بھی ہونی چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ وزیر صحت فوری طور پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو عہدے سے ہٹائیں۔ اس پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اتنے دن انتظار کیا ہے تو مزید چار گھنٹے برداشت کرلیں اور کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کریں۔

سینیٹر نسیمہ احسان نے حکومتی انکوائری کمیٹیوں کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمیٹی بنانا حکومتوں کا معمول بن چکا ہے، تاہم اکثر تحقیقات کے بعد رپورٹس عوام کے سامنے نہیں لائی جاتیں۔

انہوں نے پمز سانحے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ واقعے کے اصل ذمہ داروں کا تعین ہوسکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

More News