مہنگائی میں مزید اضافہ، ہفتہ وار شرح 0.5 فیصد بڑھ گئی
سالانہ مہنگائی 9.04 فیصد تک پہنچ گئی، 20 اشیائے ضروریہ مہنگی جبکہ 11 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ
ملک میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور گزشتہ ہفتے کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مجموعی طور پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 9.04 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ مہنگی ہونے والی اشیا میں دال چنا، گندم کا آٹا، انڈے، دال مسور، چائے، دال ماش اور بیف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں بھی صارفین کو اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑا۔
اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کی قیمت میں 3.46 فیصد جبکہ بجلی کی قیمت میں 2.04 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح ڈیزل 2.44 فیصد اور پیٹرول کی قیمت میں 1.71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سالانہ بنیادوں پر بھی کئی بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں 126 فیصد تک اضافہ ہوا، جبکہ آٹا 45 فیصد اور ٹماٹر 37 فیصد تک مہنگے ہوئے۔ ایل پی جی کی قیمت سالانہ بنیادوں پر 56 فیصد، ڈیزل 36 فیصد اور پیٹرول 30 فیصد مہنگا ہوا۔
ایک سال کے دوران بجلی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرخ مرچ، مٹن، بیف اور بریڈ سمیت متعدد اشیا بھی مہنگی ہوئیں۔ اس صورتحال کے باعث عام صارفین کے گھریلو بجٹ پر مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔
تاہم دوسری جانب کچھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر 11 اشیا سستی ہوئیں۔ ان میں ٹماٹر، چکن، پیاز، کیلے، لہسن، چاول اور آلو شامل ہیں۔
مہنگائی کے تازہ اعدادوشمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عوام کو خوراک، توانائی اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام عام صارفین کے لیے معاشی دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔







