بیوروکریسی کے اختیارات پر سینئر صحافی عبدالمالک کے حکومت سے سخت سوالات
14 بچوں کی ہلاکت کے بعد حکومتی ترجیحات پر تنقید، وزیراعظم آفس کے افسران اور آٹو پالیسی سے متعلق اہم دعوے سامنے آگئے
سینئر صحافی عبدالمالک نے پاکستان میں بیوروکریسی کے مبینہ غیر محدود اختیارات اور حکومتی ترجیحات پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے وزیراعظم آفس کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں عبدالمالک نے دعویٰ کیا کہ ایک طرف ملک 14 معصوم بچوں کی ہلاکت پر سوگوار ہے، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم آفس کی ترجیحات میں اپنے سابق پی ایس او اور موجودہ سیکرٹری صنعت و پیداوار کیپٹن (ر) سعید انجم کو مبینہ طور پر تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔
سینئر صحافی نے مزید دعویٰ کیا کہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے سی ای او کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ہنگامی اجلاس بلایا گیا، کیونکہ وہ سیکرٹری کے دباؤ کو قبول کرنے سے انکاری تھے۔ عبدالمالک کے مطابق یہ دباؤ ایک ایسی آٹو پالیسی سے متعلق تھا جس کے تحت سالانہ کروڑوں ڈالر کے ذاتی مفادات کے تحفظ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
عبدالمالک نے اپنے بیان میں حکومتی فیصلہ سازی اور بیوروکریسی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم یا تو اپنے دفتر کے بااثر بیوروکریٹس کے سامنے بے بس ہیں یا پھر انہیں اس صورتحال کی کوئی پروا نہیں۔
انہوں نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ہائبرڈ نظام سے متعلق بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں ایسا نظام موجود ہے تو فیلڈ مارشل کو خود آگے آنا چاہیے تاکہ بیوروکریسی میں موجود بااثر شخصیات کے فیصلوں سے ہونے والے مبینہ نقصان کا تدارک کیا جا سکے۔
ان الزامات اور دعوؤں کے حوالے سے متعلقہ حکومتی یا سرکاری اداروں کا مؤقف اس فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس لیے عبدالمالک کی جانب سے سامنے آنے والے دعووں کو ان کے بیان اور الزامات کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
یہ معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد حکومتی اداروں کی کارکردگی، انتظامی غفلت اور ذمہ داروں کے تعین پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔







