سپریم کورٹ کا خیبر پختونخوا ملازمین کی سنیارٹی پر بڑا فیصلہ، سروس ٹریبونل کا حکم کالعدم
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختونخوا کے ملازمین کی سنیارٹی سے متعلق اہم کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سروس ٹریبونل کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور متاثرہ ملازمین کی اپیلیں منظور کرلیں۔
عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ تمام متاثرہ ملازمین کی سنیارٹی اصل حالت میں بحال کی جائے، جبکہ ان کی ریگولرائزیشن 7 مارچ 2018 سے ہی مؤثر تصور کی جائے گی۔
جسٹس محمد علی مظہر کی جانب سے تحریر کردہ 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کی اشاعت میں تاخیر محض ایک انتظامی کوتاہی تھی اور اس کی سزا ملازمین کو نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے قرار دیا کہ ریاست اپنی انتظامی غلطی کا فائدہ نہیں اٹھا سکتی اور نہ ہی سرکاری اداروں کی نااہلی کے باعث ملازمین کو ان کے قانونی حقوق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کسی نوٹیفکیشن کی گزٹ میں اشاعت کی تاریخ کو سنیارٹی کے تعین کا واحد معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ ملازمین کو انتظامی تاخیر یا کوتاہی کا قربانی کا بکرا بنانا قانونی طور پر درست نہیں۔
کیس کے مطابق متعلقہ ملازمین کو کے پی ایمپلائز ریگولرائزیشن آف سروس ایکٹ 2018 کے تحت 7 مارچ 2018 سے ریگولرائز کیا گیا تھا۔ ان کے ریگولرائزیشن نوٹیفکیشنز اگست اور اکتوبر 2018 میں جاری کیے گئے، تاہم سرکاری گزٹ میں ان کی اشاعت 21 اگست 2024 کو ہوئی۔
2019 سے 2023 تک جاری ہونے والی سنیارٹی لسٹوں میں ان ملازمین کو سینئر شمار کیا جاتا رہا، تاہم 2024 کی سنیارٹی لسٹ پر بعض ملازمین کے اعتراضات کے بعد معاملہ سروس ٹریبونل پہنچا۔
سروس ٹریبونل نے گزٹ میں اشاعت میں تاخیر کو بنیاد بناتے ہوئے سنیارٹی لسٹ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ متاثرہ ملازمین نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں عدالت عظمیٰ نے اب سروس ٹریبونل کا فیصلہ ختم کرتے ہوئے ملازمین کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔







