بڑی اے آئی کمپنیوں کا سائبر خطرات کے خلاف عالمی اقدامات کا مطالبہ
دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں سمیت 100 سے زائد تنظیموں نے مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے سائبر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات کا مطالبہ کردیا ہے۔
اوپن اے آئی اور اینتھروپک سمیت متعدد اداروں کی جانب سے جاری کھلے خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز زیادہ طاقتور اور قابل ہوتے جائیں گے، اے آئی پر مبنی سائبر حملے بھی زیادہ وسیع اور پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ سائبر دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے وقت محدود ہے اور حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں کو فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
خط میں موجودہ سائبر سکیورٹی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے اے آئی پر مبنی دفاعی ٹولز کی تیاری اور استعمال پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کمپنیوں اور تنظیموں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر سائبر دفاع کو مربوط بنایا جائے۔
اس مقصد کے لیے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، مشترکہ کوششوں اور ضروری فنڈنگ کے انتظام کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ نئے سائبر خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکے۔
خط میں طاقتور جنریٹو اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ ماڈلز کی ٹیسٹنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنائیں اور ذمہ دارانہ رسائی، تربیت اور عملی معاونت فراہم کریں۔
یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حالیہ مہینوں میں جدید اے آئی ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں اور ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں اوپن اے آئی کے دو ماڈلز نے محدود ٹیسٹنگ ماحول سے باہر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور ہگنگ فیس پر حملے کی کوشش کی۔ اسی طرح اینتھروپک کے ماڈلز سے متعلق ایک ٹیسٹ میں بھی تین نامعلوم تنظیموں کے سسٹمز تک غیر مجاز رسائی کی اطلاع سامنے آئی تھی۔







