ایف بی آر کا بڑا فیصلہ، کوسٹ گارڈ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور فرنٹیئر کور کو کسٹمز اختیارات تفویض
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈ، پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ و ساؤتھ کے افسران و اہلکاروں کو کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بعض اختیارات اور کسٹمز افسران کے مخصوص فرائض تفویض کردیئے ہیں۔
ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کی جانب سے اس حوالے سے تین الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے گئے ہیں، جن کے مطابق تفویض کردہ اختیارات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے، جبکہ سابقہ متعلقہ نوٹیفکیشنز منسوخ کردیئے گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈ اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں ساحلی پٹی سے 50 کلومیٹر تک کے علاقے میں مقررہ کسٹمز فرائض انجام دے سکے گی، تاہم میونسپل حدود، کسٹمز ایریاز، کسٹمز اسٹیشنز، بندرگاہوں، سرحدی کسٹمز اسٹیشنز، بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور بانڈڈ گوداموں سمیت مخصوص مقامات اس دائرہ اختیار سے خارج ہوں گے۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ کوسٹ گارڈ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور فرنٹیئر کور کو دیے گئے اختیارات پاکستان کسٹمز کے اختیارات کا متبادل نہیں ہوں گے بلکہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں کسٹمز حکام کی معاونت کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
جاری نوٹیفکیشنز کے تحت متعلقہ اہلکاروں کو جائز تجارتی اشیا، درآمدات و برآمدات اور عام شہریوں کی آمدورفت میں بلاوجہ رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، جبکہ کسٹمز سے کلیئر شدہ سامان اور حقیقی مسافروں کے سامان کی بلاجواز چیکنگ نہیں کی جائے گی۔
ایف بی آر کے مطابق اسمگل شدہ یا اسمگلنگ کے لیے مختص ہونے کے شبہ میں ضبط کی جانے والی اشیا اور گاڑیاں قریبی کسٹمز اسٹیٹ ویئر ہاؤس یا کلکٹر کسٹمز کی جانب سے منظور شدہ گودام میں جمع کرائی جائیں گی۔
ضبط شدہ سامان کی تفصیلات بھی مقررہ طریقہ کار کے تحت متعلقہ حکام کو فراہم کرنا ہوں گی۔ متعلقہ ونگ کا افسر کمانڈنگ ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک گزشتہ ماہ کے دوران ضبط کی گئی اشیا اور گاڑیوں کی تفصیلات متعلقہ کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کو فراہم کرے گا۔
اس کے علاوہ ضبط شدہ سامان کی رپورٹ متعلقہ ایڈجوڈیکیشن کلکٹریٹ کو سامان تحویل میں لیے جانے کے 15 روز کے اندر بھجوائی جائے گی، جبکہ اس کی ایک نقل متعلقہ کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کو بھی فراہم کرنا لازمی ہوگا۔
قانونی فورم کی جانب سے ضبط شدہ سامان یا گاڑیوں کو بحقِ سرکار قرار دیے جانے کے بعد ان کی نیلامی یا تلفی متعلقہ کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کی جانب سے کسٹمز ایکٹ 1969، متعلقہ قواعد اور نیلامی کے ضوابط کے تحت کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں رابطہ کاری کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔ چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ اسلام آباد متعلقہ سکیورٹی اداروں کے افسران کے ساتھ باقاعدگی سے رابطہ کاری اجلاس منعقد کریں گے، جن میں کارروائیوں اور کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
دوسرے نوٹیفکیشن کے تحت پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے افسران کو بھی اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں کسٹمز کے مخصوص فرائض انجام دینے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ انہیں بھی کسٹمز حکام کی معاونت، اسمگلنگ کی روک تھام اور ضبط شدہ سامان کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق کسٹمز کے حوالے کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
اسی طرح تیسرے نوٹیفکیشن کے تحت فرنٹیئر کور بلوچستان نارتھ اور ساؤتھ کے اہلکاروں کو بلوچستان میں مقررہ علاقوں اور شاہراہوں پر اسمگلنگ کے خلاف کارروائی کے لیے کسٹمز ایکٹ کے تحت مخصوص اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق تینوں نوٹیفکیشنز 30 جون 2027 تک نافذ العمل رہیں گے۔ مدت ختم ہونے سے قبل متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان اختیارات اور کارروائیوں میں توسیع سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔








