بلاول بھٹو کی شادی کہاں اور کب؟ سوشل میڈیا پر دعوے، پیپلز پارٹی کا موقف آگیا
کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختلف خبروں نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، تاہم پیپلز پارٹی نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔
سوشل میڈیا اور بعض ذرائع کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ یورپی ملک لیختن شٹائن پہنچے ہیں، جہاں مبینہ طور پر بلاول بھٹو زرداری کی شادی کے حوالے سے اہم مشاورت اور تاریخ طے کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع سے منسوب ایک اور دعوے میں کہا گیا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی مبینہ ہونے والی اہلیہ کا تعلق لیختن شٹائن کے دارالحکومت وادوز سے ہے، جبکہ شادی کی تقریب رواں سال کے اختتام پر منعقد کیے جانے کی توقع ظاہر کی جارہی ہے۔
یہ دعوے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بلاول بھٹو زرداری کی شادی کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں اور صارفین کی جانب سے شادی کی تاریخ، مقام اور مبینہ رشتہ داروں سے متعلق سوالات بھی کیے جانے لگے۔
لیختن شٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹا خودمختار ملک ہے، جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے۔ اس کا دارالحکومت وادوز ہے۔ تاہم بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے متعلق گردش کرنے والے دعووں میں لیختن شٹائن کا نام سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے مزید دلچسپی پیدا ہوئی۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے ان خبروں کی واضح تردید کردی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بلاول بھٹو زرداری کی منگنی یا شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
پارٹی کے موقف کے بعد بلاول بھٹو زرداری کی شادی سے متعلق سامنے آنے والے دعووں کی کوئی باضابطہ تصدیق موجود نہیں ہے۔ نہ ہی پیپلز پارٹی کی جانب سے شادی کی کسی تاریخ، مقام یا ہونے والی اہلیہ کے حوالے سے کوئی سرکاری اعلان سامنے آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر معروف سیاسی شخصیات سے متعلق نجی زندگی کی خبریں تیزی سے پھیلتی ہیں، تاہم ان میں سے ہر دعوے کی آزادانہ یا سرکاری ذرائع سے تصدیق ضروری ہوتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی شادی کے حوالے سے بھی فی الحال دستیاب معلومات میں پارٹی کی جانب سے تردید ہی سامنے آئی ہے۔
یوں بلاول بھٹو زرداری کی شادی، لیختن شٹائن میں مبینہ قیام اور رواں سال کے آخر میں شادی کی تقریب سے متعلق دعوے اس وقت تک غیر مصدقہ ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ آئندہ اگر خاندان یا پارٹی کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے آتا ہے تو صورتحال مزید واضح ہوسکتی ہے۔








