بلاول بھٹو زرداری نے منگنی اور شادی کی خبروں کی تردید کردی
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر اپنی منگنی اور شادی سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کی تردید کردی۔
اپنے ویڈیو بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر ان کی ذاتی زندگی میں ایسا کوئی فیصلہ ہوا تو اس کا اعلان ان کا خاندان خود کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال نہ تو ان کی منگنی ہوئی ہے اور نہ ہی شادی سے متعلق کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ان کی بات پکی کرنے کے ساتھ ساتھ منگنی اور شادی بھی کروا دی، تاہم حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کسی ’’شہزادی گلوریا‘‘ کو نہیں جانتے، جن کا نام سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض خبروں میں لیا جارہا تھا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے ان خبروں کو سوشل میڈیا کا تماشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی باتوں کا مقصد عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا ہے۔
اپنے بیان میں بلاول بھٹو نے اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے کا بھی ذکر کیا، جس میں 14 بچوں کی اموات کا معاملہ سامنے آیا۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک وفاقی وزیر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق ان کے بیانات پر بھی اعتراض کیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ایک ایسا وزیر جو ایک اسپتال نہیں سنبھال سکتا، وہ ملک کے انتظامی ڈھانچے اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بڑے دعوے کررہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ وزیر لاہور کے کاروباری افراد سے صوبے بنانے اور چلانے کی بات کررہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سندھ اسمبلی نئے صوبوں کے معاملے پر ایک جرات مندانہ مؤقف اختیار کررہی ہے۔
اس سے قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ بلاول بھٹو زرداری اور صدر مملکت آصف علی زرداری، بلاول کی ممکنہ منگنی کے سلسلے میں ایک آسٹرین خاندان سے بات چیت کے لیے ویانا میں موجود ہیں۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض رپورٹس میں ممکنہ دلہن کو آسٹریا کے سابق شاہی خاندان ’’ہاؤس آف ہیبسبرگ-لورین‘‘ سے منسلک کیا گیا تھا، جبکہ کچھ رپورٹس میں انہیں آسٹریا کے آخری شہنشاہ کارل اول کے خاندان سے بھی جوڑا گیا۔
تاہم بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تازہ بیان میں ان تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ ان کی منگنی یا شادی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔








