پشاور ہائیکورٹ کا ممتاز کی میت ورثاء کے حوالے کرنے کا حکم
عدالت نے پولیس کو تدفین میں رکاوٹ نہ ڈالنے اور اسپتال انتظامیہ کو میت کی ویڈیو بنانے کی ہدایت کردی
پشاور: پشاور ہائیکورٹ نے 47 مقدمات میں مطلوب ممتاز عرف ممتازے کی میت اس کے حقیقی ورثاء کے حوالے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ممتاز کی والدہ باغ مینا کی جانب سے دائر ضمنی درخواست کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل شبیر گگیانی نے عدالت کو بتایا کہ پیر کے روز ممتاز کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے پشاور منتقل کیا جارہا تھا کہ مسلح افراد نے پولیس پر حملہ کردیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ممتاز عرف ممتازے اور دو حملہ آور ہلاک ہوگئے۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ممتاز کی میت ورثاء کے حوالے نہیں کی جارہی، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ میت کس کے پاس ہے اور اسے ورثاء کے حوالے کرنے میں رکاوٹ کیوں ہے۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل عبدالرؤف آفریدی اور ڈی ایس پی لیگل عدالت میں پیش ہوئے۔ اے اے جی نے بتایا کہ پولیس میت ورثاء کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اسے صرف حقیقی ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ مقتول کی والدہ اور بھائی میت وصول کرنے کے لیے جائیں گے اور عدالت سے استدعا کی کہ تدفین کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔
اے اے جی نے عدالت کو بتایا کہ میت اس وقت اسپتال میں موجود ہے اور درخواست کی کہ اسپتال انتظامیہ میت کی ویڈیو بھی ریکارڈ کرے تاکہ ریکارڈ محفوظ رہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ ممتاز کی میت حقیقی ورثاء کے حوالے کی جائے اور اسپتال انتظامیہ میت کی ویڈیو بنا کر ریکارڈ محفوظ رکھے۔ عدالت نے پولیس کو تدفین کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کی بھی ہدایت کردی۔






