پشاور ناردرن بائی پاس حملہ، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

پشاور ناردرن بائی پاس حملہ، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی

پشاور(محمد عارف ) ناردرن بائی پاس پر ممتاز عرف ممتازے اور پولیس پر حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، پولیس کے مطابق حملے میں تقریباً 10 ملزمان شامل تھے جنہوں نے جدید و بھاری ہتھیاروں اور دستی بموں سے پولیس گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق ممتاز عرف ممتازے کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسلام آباد ایئرپورٹ سے ڈی ایس پی کی گاڑی میں پشاور کے تھانہ داؤدزئی منتقل کیا جا رہا تھا اور اسے بلٹ پروف جیکٹ بھی پہنائی گئی تھی۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے پولیس گاڑی پر فائرنگ کرکے اس کے ٹائرز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد دستی بم سے حملہ کیا گیا۔ ممتازے کو دوسری پولیس گاڑی میں منتقل کرنے کی کوشش کے دوران پولیس اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

فائرنگ کے نتیجے میں 2 ایس ایچ اوز شدید زخمی ہوئے، ممتاز عرف ممتازے جاں بحق جبکہ 2 مبینہ حملہ آور بھی ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حملہ آوروں کے دیگر ساتھی فرار ہوگئے اور مبینہ طور پر فرار ہوتے وقت ممتازے کو لالی گینگ کے بارے میں مخبری کرنے پر بدلہ لینے کے نعرے لگاتے رہے۔

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ہلاک ہونے والے دونوں مبینہ حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے اور ان کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج ہیں۔ حملے میں استعمال ہونے والی دونوں موٹر سائیکلیں بھی مبینہ طور پر فقیر آباد اور چمکنی کے علاقوں سے چھینی گئی تھیں۔

تحقیقاتی حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ حملے کی منصوبہ بندی کس نے کی، ملزمان کو ممتازے کی منتقلی کی اطلاع کیسے ملی اور تقریباً 10 رکنی گروہ نے اتنی بڑی کارروائی کے لیے کس طرح تیاری کی۔

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حملے کو مبینہ طور پر ممتازے سے بدلہ لینے کے منصوبے سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ منصوبہ بندی میں لالی برادران کے ایک مبینہ قریبی رشتہ دار کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد ممتاز عرف ممتازے اور مبینہ حملہ آوروں کی لاشیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئیں۔ ممتازے کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اسے سپرد خاک کردیا گیا، جبکہ زخمی پولیس افسران اور اہلکاروں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔

واقعے کے بعد شہریوں کی جانب سے متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ حملہ آوروں کو ممتازے کی منتقلی کی اطلاع کس نے دی؟ کیا پولیس کے روٹ کی مخبری کی گئی تھی؟ حملے میں ملوث دیگر ملزمان کون ہیں اور کیا یہ کارروائی واقعی کسی پرانے تنازع یا بدلے کا نتیجہ تھی؟

پشاور پولیس کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج حملے میں ملوث باقی ملزمان تک پہنچنا اور اس خطرناک کارروائی کے اصل منصوبہ سازوں کا سراغ لگانا ہے

More News