مانسہرہ میں موسیٰ کا مصلیٰ سے لاپتہ آئرش شہری کی لاش گہری کھائی سے برآمد
خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ میں چار ہزار میٹر بلند چوٹی موسیٰ کا مصلیٰ سے واپسی کے دوران لاپتہ ہونے والے آئرلینڈ کے شہری الیگزینڈر مارک ہیرس کی لاش چار روزہ سرچ آپریشن کے بعد گہری کھائی سے برآمد کرلی گئی۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق کئی روز کی کوششوں کے بعد لاش کو پہاڑی علاقے سے نکال کر جچھہ منتقل کیا جا رہا ہے۔
مانسہرہ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاش کو گہری کھائی سے نکالنے میں ریسکیو ٹیموں کو کئی گھنٹوں تک دشوار گزار علاقے میں کام کرنا پڑا۔ لاش کو موسیٰ کا مصلیٰ سے نیچے لانے کے بعد مانسہرہ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا جائے گا، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد اسے اسلام آباد پہنچایا جائے گا۔
الیگزینڈر مارک ہیرس 29 اگست کو مانسہرہ کی سیرن وادی میں واقع موسیٰ کا مصلیٰ کی سیر کے دوران لاپتہ ہوئے تھے۔ وہ اسلام آباد میں مقیم تھے اور ایک غیر سرکاری تنظیم کے ساتھ کام کرتے تھے۔
وہ اپنے برطانوی ساتھی ایلن ڈیوڈ کوپر کلیڈون کے ہمراہ مانسہرہ کے پہاڑی علاقے میں گئے تھے، تاہم واپسی کے دوران ان سے رابطہ منقطع ہوگیا۔
ان کی گمشدگی کے بعد مانسہرہ پولیس، ریسکیو 1122، محکمہ جنگلات اور مقامی افراد نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ بدھ کو حکام نے بتایا تھا کہ ڈرون کی مدد سے ایک گہری کھائی میں لاش کی موجودگی کا پتا چلایا گیا۔
مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنر خالد اقبال کے مطابق وقفے وقفے سے جاری بارش اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کے باعث لاش تک پہنچنے اور اسے نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا رہا۔
حکام کے مطابق لاش کی منتقلی اور طبی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے اسلام آباد منتقل کیا جائے گا۔








