نظام میں ری سیٹ ضروری، نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہئیں: محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کے موجودہ طرز حکمرانی میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے نظام کو ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے اور نئے صوبے عوام کی مرضی اور خواہش کے مطابق بنائے جانے چاہئیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ ملک میں انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے، جبکہ مقامی قیادت کو اپنے علاقوں کی ذمہ داری اور معاملات میں زیادہ اختیار دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے سے حکمرانی کے مسائل پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے اسلام آباد کو مکمل صوبہ بنانے کی حمایت بھی کی اور کہا کہ وہ اسلام آباد کو باقاعدہ صوبہ بنانے کے سب سے بڑے حامی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام اور مقامی سطح پر قیادت کو بااختیار بنانے سے ملک کے انتظامی ڈھانچے کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
محسن نقوی نے سیاسی منظرنامے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زوھران ممدانی اور محمد صادق جیسے افراد سیاسی میدان میں سامنے آتے رہیں گے۔ ان کے مطابق ملک کی ترقی کسی ایک فرد، حکومت یا سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک نہیں ہونی چاہیے بلکہ نظام اور اداروں کو مضبوط بنایا جانا ضروری ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں پائیدار ترقی کے لیے ایسا انتظامی نظام درکار ہے جو حکومتوں اور سیاسی شخصیات کی تبدیلی کے باوجود مؤثر انداز میں کام کرتا رہے۔
محسن نقوی کے بیان کے بعد ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی اختیارات کی تقسیم سے متعلق بحث ایک بار پھر اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ نئے صوبوں کے حامیوں کا مؤقف رہا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے عوام کو سرکاری سہولیات کی فراہمی بہتر بنائی جا سکتی ہے اور حکومتی اداروں کو شہریوں کے قریب لایا جا سکتا ہے۔
تاہم نئے صوبوں کا قیام ایک حساس سیاسی اور آئینی معاملہ ہے، جس کے لیے وسیع سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی و انتظامی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
محسن نقوی کی جانب سے نظام میں ری سیٹ اور نئے صوبوں کی تشکیل کا مطالبہ ملک کے انتظامی ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔





