پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا حکومت سے اضافی چینی برآمد کا مطالبہ

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا حکومت سے اضافی چینی برآمد کرنے کا مطالبہ

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت سے ملک میں موجود اضافی چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال شوگر انڈسٹری کے لیے انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ حکام کے ساتھ متعدد اجلاسوں میں ملک میں موجود اضافی چینی کے اسٹاک کی صورتحال کی تصدیق ہو چکی ہے، اس کے باوجود اضافی چینی کی برآمد کی اجازت دینے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔

ترجمان کے مطابق شوگر ملز کو پہلے ہی سرپلس چینی کا اسٹاک رکھنے کے لیے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں شوگر ملز کے گودام اضافی چینی سے بھرے پڑے ہیں، جس کے باعث مزید ذخیرہ کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ نئے کرشنگ سیزن کے آغاز میں اب صرف تقریباً دو ماہ باقی رہ گئے ہیں، جبکہ نئی فصل کے تخمینے کے مطابق آئندہ سیزن میں تقریباً 8 ملین میٹرک ٹن چینی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ موجودہ اسٹاک کے علاوہ اگر آئندہ سیزن میں نئی پیداوار بھی مارکیٹ میں آتی ہے تو ملک میں چینی کے ذخیرے کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق تقریباً 10 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی پہلے ہی موجود ہے، جسے طویل عرصے تک اسٹور کرنا شوگر ملز کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔

ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے میڈیا اور متعلقہ حکام کے سامنے اس مسئلے کو اجاگر کر رہی ہے، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے شوگر انڈسٹری کے مطالبات پر تاحال مطلوبہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال کے باعث شوگر ملز کو اسٹوریج، مالی اور دیگر اضافی اخراجات کا سامنا ہے، جبکہ گوداموں میں موجود سرپلس اسٹاک کے باعث آنے والے کرشنگ سیزن کی تیاری بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر 10 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت دے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اضافی چینی کی برآمد سے پاکستان کو تقریباً 700 سے 800 ملین ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کے اضافی ذخیرے کو بروقت برآمد کرنے کے لیے فوری فیصلہ کیا جائے تاکہ شوگر ملز کو درپیش اسٹوریج کے مسائل کم ہوں، نئی فصل کے لیے گوداموں میں جگہ دستیاب ہو اور ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکے۔

More News