ٹیم میں تبدیلیوں پر حیرت ہوئی، لیکن پی سی بی کے فیصلوں کو تسلیم کرتا ہوں، بابر اعظم
اسلام آباد: قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹیم میں حالیہ تبدیلیوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نتائج بہتر نہ ہوں تو ٹیم میں تبدیلیاں معمول کی بات ہیں، تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے جو فیصلے کیے ہیں وہ انہیں تسلیم کرتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم نے کہا کہ مختلف کنڈیشنز میں ٹیم کو کارکردگی دکھانا ہوتی ہے اور اگر نتائج توقعات کے مطابق نہ ہوں تو تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق پی سی بی نے کھلاڑیوں میں تبدیلی کا فیصلہ کچھ سوچ سمجھ کر ہی کیا ہوگا، تاہم ان فیصلوں کی وجوہات کے بارے میں بورڈ ہی بہتر طور پر وضاحت کرسکتا ہے۔
قومی ٹیسٹ کپتان نے انکشاف کیا کہ انہیں بھی ٹیم میں ہونے والی بعض تبدیلیوں کا پہلے سے علم نہیں تھا اور اس بارے میں بعد میں معلوم ہوا۔ بابر اعظم نے کہا کہ تبدیلیاں ان کے لیے بھی ایک خبر تھیں، تاہم وہ پی سی بی کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ بطور سینئر کھلاڑی انہیں اپنی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ انہوں نے ایجبسٹن کے میدان کو اپنے لیے خوش قسمت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ میچ میں وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
لارڈز ٹیسٹ میں قومی ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے بابر اعظم نے تسلیم کیا کہ ٹیم نے آخری میچ میں تینوں شعبوں، بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں متاثر کن کھیل پیش نہیں کیا۔ ان کے مطابق ٹیم کو اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے آئندہ میچ میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرنی ہوگی۔
نئے کھلاڑیوں کی شمولیت کے حوالے سے بابر اعظم نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کے لیے یہ سنہری موقع ہے اور انہیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا موقع ملا ہے اور انہیں اعتماد کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے۔
قومی کپتان نے اپنی حالیہ کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب کھلاڑی پرفارم نہیں کرتے تو باتیں ہوتی ہیں، تاہم اگر کارکردگی کو دیکھا جائے تو گزشتہ سیریز میں وہ مین آف دی سیریز بھی رہے ہیں۔
بابر اعظم نے کہا کہ بطور ٹیم پاکستان کو آخری میچ کی خامیوں پر قابو پانا ہوگا اور آنے والے مقابلے میں مثبت کرکٹ کھیلنے پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا مقصد بہتر کارکردگی کے ساتھ سیریز کا اختتام کرنا ہے۔








