عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا، مربان کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ

عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا، مربان کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی، برطانوی اور دیگر اہم اقسام کے خام تیل کی قیمتیں کئی ڈالر فی بیرل بڑھ گئی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 93 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

اسی طرح عالمی مارکیٹ میں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 98 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہوگئی۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور عالمی سطح پر سپلائی کے حوالے سے بڑھنے والے خدشات کو قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب مربان خام تیل کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ مربان خام تیل متحدہ عرب امارات سے حاصل ہونے والا اہم خام تیل ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کی قیمتوں میں تبدیلی بھی توانائی کے شعبے پر اثر انداز ہوتی ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے قبل بھی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی تھیں۔ دو روز قبل امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 91.48 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں 18 سینٹ یا 0.20 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

اسی عرصے میں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 96.28 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی، جس میں 76 سینٹ یا 0.80 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے جولائی 2026 میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ جائزے اور تعین کا نظام متعارف کرایا تھا، جس کے تحت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی تیزی سے ردوبدل ممکن ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے پہلے ہی مہنگائی کا سامنا کرنے والے عوام کے سفری اور دیگر اخراجات میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

More News