امریکا ایران کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئیں

امریکا ایران کشیدگی، خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کے قریب پہنچ گئیں

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر نمایاں ہونے لگے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے سیشن کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی اور توانائی کے اخراجات میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب پہنچ گئی۔ برینٹ کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 1.57 ڈالر، یعنی 1.6 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 99.49 ڈالر تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ WTI کی قیمت 1.60 ڈالر، یعنی 1.72 فیصد بڑھ کر 94.63 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

رپورٹس کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور عالمی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو تیل کی ترسیل اور سپلائی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے عالمی منڈی میں قیمتیں مزید اوپر جانے کا امکان ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کرسکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت سمیت پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں۔

More News