طاقت اور دباؤ سے مطالبات منوانے کا یک طرفہ نظام ختم ہو چکا، باقر قالیباف
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ طاقت اور دباؤ کے ذریعے مطالبات منوانے والا یک طرفہ عالمی نظام اب ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاملات میں یک طرفہ طرزِ عمل کسی کے مفاد میں نہیں، اس لیے کثیر الجہتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
ایک بیان میں باقر قالیباف نے کہا کہ عالمی سطح پر کثیر الجہتی نظام کا دفاع اور قانون کی حکمرانی کا احترام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے چین اور روس کی جانب سے سلامتی کونسل کے سیاسی استعمال کو مسترد کرنے اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے اعادے کا بھی ذکر کیا۔
ایرانی سپیکر کے مطابق بین الاقوامی مسائل کے حل کے لیے طاقت اور دباؤ کے بجائے قانون، باہمی احترام اور کثیر الجہتی تعاون کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسے نظام کی ضرورت ہے جس میں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور تعاون کو ترجیح حاصل ہو۔
باقر قالیباف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر طاقت کے استعمال، بین الاقوامی قوانین اور کثیر الجہتی اداروں کے کردار پر بحث جاری ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عالمی تنازعات اور مسائل کا پائیدار حل دباؤ کے بجائے قانون اور تعاون کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔








