محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد، تحریری فیصلہ جاری

محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد، تحریری فیصلہ جاری

لاہور ہائیکورٹ نے قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد رضوان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی جانب سے جاری انکوائری کے خلاف درخواست مسترد کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ عدالت نے محمد رضوان کو انکوائری میں شامل ہونے اور متعلقہ ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد رضوان کی درخواست پر 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں عدالت نے این سی سی آئی اے کو بھی ہدایت کی کہ انکوائری قانون کے مطابق مکمل کی جائے اور کرکٹر کو غیر ضروری طور پر ہراساں یا پریشان نہ کیا جائے۔

عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق این سی سی آئی اے نے محمد رضوان کو 8 ستمبر کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا۔ نوٹس کے ذریعے انہیں 10 ستمبر کو متعلقہ ادارے کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کرنے اور الزامات کی وضاحت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ محمد رضوان 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا مؤقف پیش کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 14 ستمبر کو اپنا تحریری جواب بھی متعلقہ ادارے میں جمع کرایا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ محمد رضوان کو جاری کیے گئے طلبی کے نوٹس کے بعد وہ انکوائری کے عمل میں شامل ہو چکے ہیں اور اپنا مؤقف بھی پیش کر چکے ہیں۔ عدالت نے انکوائری کے خلاف دائر درخواست کو خارج کردیا۔

عدالت نے این سی سی آئی اے کو واضح ہدایت دی کہ محمد رضوان کے خلاف جاری کارروائی مقررہ قانون اور ضابطے کے مطابق کی جائے۔ ساتھ ہی ادارے کو یہ بھی کہا گیا کہ انکوائری کے دوران انہیں غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کیا جائے۔

تحریری فیصلے میں عدالت نے فریقین کے مؤقف اور انکوائری کے طریقہ کار کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست پر فیصلہ سنایا۔ عدالت کے مطابق متعلقہ ادارہ اپنی قانونی ذمہ داری کے تحت معاملے کی تحقیقات جاری رکھ سکتا ہے، تاہم کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر کرنا ہوگی۔

محمد رضوان پاکستان کے معروف کرکٹر ہیں اور مختلف فارمیٹس میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ این سی سی آئی اے کی انکوائری سے متعلق معاملہ اب متعلقہ ادارے کے سامنے قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھے گا۔

More News