مجوزہ کے پی پولیس ایکٹ کو سیاسی بنایا گیا ہے، بیرسٹر عقیل ملک

مجوزہ کے پی پولیس ایکٹ کو سیاسی بنایا گیا ہے، بیرسٹر عقیل ملک

بیرسٹر عقیل ملک نے خیبر پختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قانون کو سیاسی بنایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے نظام میں اصلاحات کا مقصد ادارے کی کارکردگی، خودمختاری اور قانون کی عملداری بہتر بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے سیاسی معاملات سے جوڑنا۔

خیبر پختونخوا میں پولیس سے متعلق مجوزہ قانون کے حوالے سے صوبائی سطح پر بحث جاری ہے۔ صوبائی کابینہ نے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دی ہے، جس کے بعد قانون سازی کے اگلے مراحل کے لیے اسے متعلقہ فورمز پر پیش کیے جانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

بیرسٹر عقیل ملک کے بیان کے مطابق مجوزہ قانون میں پولیس کے انتظامی معاملات اور اختیارات سے متعلق مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پولیس ایکٹ ایسا ہونا چاہیے جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرنے کا ماحول فراہم کرے اور سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھے۔

خیبر پختونخوا میں پولیس کے انتظامی ڈھانچے اور اس کی خودمختاری کا معاملہ پہلے بھی بحث کا موضوع رہا ہے۔ موجودہ پولیس قانون کے حوالے سے ماضی میں بھی پولیس افسران کے اختیارات، تبادلوں، احتساب اور عوامی نگرانی کے طریقہ کار پر مختلف آرا سامنے آتی رہی ہیں۔

مجوزہ ایکٹ کے حوالے سے بنیادی بحث میں پولیس کے اختیارات، احتساب کے طریقہ کار، انتظامی نگرانی اور صوبائی حکومت کے کردار جیسے معاملات شامل ہیں۔ قانون میں کی جانے والی تبدیلیوں کا براہ راست تعلق پولیس کے روزمرہ انتظامی امور اور قانون نافذ کرنے کی صلاحیت سے ہوگا۔

حکومت کی جانب سے پولیس اصلاحات کا مقصد ادارے کے نظام کو بہتر بنانا اور امن و امان کے قیام کے لیے انتظامی ڈھانچے کو مؤثر بنانا قرار دیا جا سکتا ہے، جبکہ ناقدین بعض مجوزہ شقوں کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور متعلقہ حلقوں کی جانب سے مزید آرا سامنے آنے کا امکان ہے۔ حتمی قانون کی منظوری سے قبل مجوزہ شقوں پر بحث اور متعلقہ فریقین کی رائے اہم ہوگی، خصوصاً ان معاملات پر جن کا تعلق پولیس کی پیشہ ورانہ خودمختاری، احتساب اور انتظامی اختیارات سے ہے۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں پولیس کے قانونی اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ مجوزہ ایکٹ پر جاری بحث میں حکومت اور ناقدین کے مؤقف سامنے آنے کے بعد قانون کے حتمی خدوخال واضح ہوں گے۔

More News