ایم ڈی کیٹ کی مبینہ متنازع آنسر کیز سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج
کراچی: ایم ڈی کیٹ کی مبینہ متنازع آنسر کیز کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ درخواست میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی)، سکھر آئی بی اے اور جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سمیت 6 فریقین کو نامزد کیا گیا ہے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ایم ڈی کیٹ کا سوالیہ پرچہ اور آنسر کیز فوری طور پر ویب سائٹ پر جاری کرنے کی ہدایت کی جائے اور دونوں کو تین روز کے اندر ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جائے۔
درخواست گزار کے مطابق سوالیہ پرچہ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں امیدواروں کے لیے آنسر کیز کو مؤثر انداز میں چیلنج کرنا ممکن نہیں۔ اسی لیے تمام ایم ڈی کیٹ امیدواروں کے سامنے سوالیہ پرچہ رکھنے کی ہدایت کی جائے۔
وکیل محمد نواز ڈاہری کے مطابق ایم ڈی کیٹ کا امتحان 20 ستمبر کو منعقد ہوا تھا اور امیدواروں کو صرف جوابی شیٹ کی کاربن کاپی فراہم کی گئی۔ امیدواروں نے سوالیہ پرچہ ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کی تھی، تاہم انتظامیہ نے اجازت نہیں دی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چند نمبروں کا فرق بھی امیدوار کے میرٹ اور میڈیکل کالج میں داخلے پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔ درخواست گزار نے حتمی میرٹ لسٹ اور داخلوں کو حتمی شکل دینے سے روکنے کی بھی استدعا کی ہے۔
درخواست میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ حتمی میرٹ لسٹ جاری کرنے سے قبل ایم ڈی کیٹ کے سوالیہ پرچے اور آنسر کیز کو پبلک کرکے معاملے میں شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی جائے۔








