حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا دوسرا دورآج ، لانگ مارچ سمیت اہم امور زیرِ بحث
اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آج دوپہر 2 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوگا، جس میں 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ سمیت مختلف سیاسی معاملات پر بات چیت اور اہم پیش رفت متوقع ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی دوسرے دور کے اجلاس کی تصدیق کی ہے۔
مذاکرات کے پہلے دور میں حکومت، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے وفود نے سیاسی صورتحال، قومی امور اور باہمی اختلافات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق فریقین نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے اور قومی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی فریق کا کہنا ہے کہ احتجاج اور سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے مذاکرات میں عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی ختم کرنے، ان کی بہنوں کی نظر بندی کے خاتمے اور نجی ہسپتال میں علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد سمیت مختلف مطالبات پیش کیے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق مذاکرات میں پارٹی اپنے مطالبات پر قائم ہے۔
پی ٹی آئی رہنما راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں ہونے والی گفتگو کو راز رکھا گیا ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر نے پہلے دور کو اچھے ماحول میں ہونے والا قرار دیا۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت نے مذاکراتی ٹیم کو بات چیت کے لیے اختیار دے رکھا ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار رہا تو مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتا ہے، جبکہ بعض حکومتی ذرائع نے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے ممکنہ استعمال کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ مؤقف حکومتی ذرائع سے منسوب ہے اور مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے اور سیاسی و قومی مسائل کو پارلیمانی مکالمے کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔








