سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا، سہیل آفریدی کو نوٹس

سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا، سہیل آفریدی کو نوٹس

پشاور: خیبرپختونخوا میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے مبینہ استعمال کا معاملہ پشاور ہائی کورٹ پہنچ گیا، جہاں جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل استعمال کر رہے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لکی مروت میں ہونے والے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔

وکیل کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نومبر 2025 میں اپنے فیصلے کے ذریعے سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال پر پابندی عائد کرچکی ہے، تاہم اس کے باوجود سرکاری وسائل کے استعمال کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

عدالت نے درخواست گزار کے مؤقف اور پیش کیے گئے نکات کی سماعت کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کردی۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کرانے کے بعد معاملے کے مزید قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔

More News