سورج سے زمین کی جانب دو بڑے بادل روانہ، 11 اکتوبر کو مقناطیسی طوفان کا خدشہ
سورج سے خارج ہونے والے مادے کے دو بڑے بادل زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں، جن کے 11 اکتوبر 2026 کو زمین کے قریب پہنچنے کا امکان ہے۔ امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) نے اس صورتحال کے پیش نظر درمیانے درجے کے جیو میگنیٹک طوفان کی وارننگ جاری کی ہے۔
ماہرین کے مطابق سورج سے 7 اور 8 اکتوبر کو خارج ہونے والے مادے کے یہ بادل زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان میں سے ایک بادل دوسرے کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتار ہے اور پیش گوئی کے مطابق دونوں راستے میں آپس میں مل سکتے ہیں۔ زمین کے مقناطیسی میدان کے ساتھ ان کا تعامل جیو میگنیٹک طوفان کا سبب بن سکتا ہے۔
سورج سے خارج ہونے والے مادے میں پلازما اور مقناطیسی میدان شامل ہوتے ہیں۔ اس عمل کو کورونل ماس ایجیکشن (CME) کہا جاتا ہے۔ جب یہ مادہ زمین تک پہنچتا ہے تو زمین کے قدرتی مقناطیسی میدان میں خلل پیدا کر سکتا ہے، جس کے اثرات مختلف تکنیکی نظاموں پر پڑنے کا امکان ہوتا ہے۔
NOAA کے مطابق 11 اکتوبر کے لیے ممکنہ طوفان کو G2 یعنی درمیانے درجے میں شمار کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی سرگرمی کے دوران سیٹلائٹ نیویگیشن، GPS سگنلز اور ہائی فریکوئنسی ریڈیو مواصلات متاثر ہو سکتے ہیں۔ بعض حالات میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں بھی خلل پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
جیو میگنیٹک طوفان کے اثرات اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ سورج سے آنے والے مادے کی شدت کتنی ہے اور اس کا مقناطیسی میدان زمین کے میدان کے ساتھ کس طرح تعامل کرتا ہے۔ اس لیے پیش گوئی کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ ہر ممکنہ اثر لازماً سامنے آئے۔
اس دوران ماہرین خلائی موسم کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ اثرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔ طوفان کی اصل شدت اور اس کے تکنیکی نظاموں پر اثرات کا تعین زمین کے قریب پہنچنے کے بعد زیادہ واضح ہو سکے گا۔








