وفاقی کابینہ کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر غور، ذرائع
اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے کی موجودہ امن و امان کی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں آئینی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ اس معاملے پر وفاقی کابینہ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ تاہم گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے مطابق اس حوالے سے حتمی سرکاری فیصلہ کابینہ نے کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال، بالخصوص خیبر پختونخوا میں امن و امان کے حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وفاقی وزرا اور دیگر اہم حکام بھی شریک تھے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سمیت مختلف آئینی آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور رہی ہے۔ ان اضلاع میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے علاوہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان شامل بتائے گئے ہیں۔ تاہم اس تجویز اور انتظامی تبدیلیوں سے متعلق حتمی سرکاری اعلان سامنے آنا باقی ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی بھی اس معاملے کا اہم پس منظر ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے صوبے کے مسائل حل نہیں ہوں گے، جبکہ حکومت کی جانب سے امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی سیاسی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات میں کشیدگی کم کرنے اور اپوزیشن کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی تجویز پیش کی۔
آئینی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی اور گورنر راج دو الگ آئینی اقدامات ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232 کا تعلق مخصوص ہنگامی حالات سے ہے، جبکہ آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی نظام چلانے میں ناکامی کی صورت میں گورنر راج سے متعلق ہے۔ ان اقدامات کا نفاذ متعلقہ آئینی تقاضے پورے کرنے سے مشروط ہے۔
قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس 13 اکتوبر کو بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب توجہ وفاقی کابینہ کے حتمی فیصلے اور اس حوالے سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے پر مرکوز ہے۔








