وفاقی وزراء کا پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا میں بدامنی اور دہشت گردی بڑھنے کا الزام

وفاقی وزراء کا پی ٹی آئی پر خیبر پختونخوا میں بدامنی اور دہشت گردی بڑھنے کا الزام

اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بین الاقوامی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی، بدامنی اور انتشار پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عائد کیا ہے۔ وفاقی وزراء کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پیش آئی۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے واقعات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں تقریباً 2,900 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 2024 سے 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 8,600 تک پہنچ گئی۔ ان کے مطابق اس عرصے میں دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 195 فیصد اضافہ ہوا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ صدر مملکت نے آئینی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کی تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے صوبے میں انسداد دہشت گردی کے لیے مختص فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کے لیے فراہم کیے گئے 800 ارب روپے سے زائد فنڈز کے استعمال کی وضاحت ہونی چاہیے۔

عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں سیف سٹی کیمروں اور فرانزک لیبارٹری جیسے اہم منصوبوں پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

وفاقی وزراء کے یہ بیانات خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق وفاقی حکومت کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے اعدادوشمار، فنڈز کے استعمال اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور صوبائی حکومت کا مؤقف بھی اہم ہے۔

More News